وزیرِ اعظم کی خصوصی ریلیف اسکیم
مہنگے پٹرول کے بوجھ سے عوام کو ریلیف
مشرقِ وسطیٰ میں حالات کی خرابی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے موٹرسائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی تک کی گاڑیاں رکھنے والے شہریوں کے لیے خصوصی پٹرول ریلیف اسکیم کا اعلان کیا ہے۔
کون اس سہولت کے لیے اہل ہے؟
حکومتِ پاکستان کے ضابطہ قوانین کے مطابق درج ذیل اہلیت رکھنے والے شہری اس اسکیم سے مستفید ہو سکتے ہیں۔
دو اور تین پہیہ گاڑیاں
رجسٹریشن یکم جنوری 2011 یا اس کے بعد کی ہونی چاہیے۔
گاڑی کا درخواست گزار کے نام پر ہونا ضروری نہیں۔
چھوٹی گاڑیاں
رجسٹریشن یکم جنوری 2006 یا اس کے بعد کی ہونی چاہیے۔
گاڑی درخواست گزار کے اپنے نام پر رجسٹرڈ ہونی چاہیے۔
شناختی تصدیق
درخواست صرف اسی موبائل نمبر سے دی جا سکتی ہے جو درخواست گزار کے اپنے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ ہو۔
آپ کو کتنا ریلیف ملے گا؟
پٹرول کی سرکاری نرخ سے فی لیٹر رعایت، ماہانہ مقررہ مقدار کے مطابق۔
| زمرہ | فی لیٹر رعایت | مقررہ مقدار |
|---|---|---|
| موٹرسائیکل اور تین پہیہ گاڑیاں | 100 روپے | 5 لیٹر (7 دن کے لیے) |
| 800 سی سی تک گاڑیاں | 100 روپے | 10 لیٹر (10 دن کے لیے) |
طریقہ کار کے 3 مراحل
ریلیف حاصل کرنے کے لیے درج ذیل مراحل مکمل کریں۔
رجسٹریشن کا طریقہ کار
اپنے موبائل کے میسج میں درج ذیل ترتیب سے تفصیلات لکھ کر 9771 پر بھیج دیں:
- صوبائی کوڈ: I – اسلام آباد، A – آزاد کشمیر، G – گلگت بلتستان، S – سندھ، P – پنجاب، K – خیبرپختونخوا، B – بلوچستان
- تاریخ کی ترتیب: پہلے دو ہندسے دن، اگلے دو مہینہ، آخری چار سال
- ایس ایم ایس چارجز 1 روپے 25 پیسے (ٹیکس کے علاوہ) لاگو ہوں گے
- رجسٹریشن مکمل ہونے پر تصدیقی پیغام موصول ہوگا
ٹوکن لینے کا طریقہ
رجسٹریشن کے بعد، پٹرول پمپ جانے سے پہلے TOK لکھ کر 9771 پر بھیج دیں۔
موصول ہونے والا ٹوکن اگلے 10 دنوں تک قابلِ استعمال ہوگا، اس کے بعد نیا ٹوکن حاصل کرنا ہوگا۔
رعایتی پٹرول کا حصول
10 ہندسوں کا ٹوکن نمبر پمپ کے نمائندے کو دکھا کر رعایتی نرخ پر پٹرول حاصل کریں۔ تمام پٹرول پمپس پر فی لیٹر 100 روپے کی فوری رعایت دی جائے گی۔
پروگرام کی اہم خصوصیات
شفافیت، سہولت اور منصفانہ تقسیم کی حکومتی ضمانت۔
پروگرام کی مدت
یہ اسکیم تازہ ترین سرکاری اطلاع کے مطابق مقررہ اور اعلان کردہ مدت تک نافذ العمل رہے گی۔
شفاف اور منصفانہ عمل
نادرا اور ایکسائز ریکارڈز کے الیکٹرانک ڈیٹا بیس سے خودکار تصدیق، سفارش یا بدعنوانی سے پاک۔
عوام کے لیے سہولت
عام شہریوں کے معاشی بوجھ کو کم کر کے ان کے روزگار اور نقل و حرکت کو سہل بنانا اولین ترجیح ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اسکیم کے حوالے سے شہریوں کے عام سوالات۔
یہ اہل موٹر سائیکلوں، دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں، اور 800cc تک انجن کی گنجائش والی موٹر کاروں کے لیے ایندھن پر سبسڈی کی اسکیم ہے۔ شہری SMS کے ذریعے ایک مرتبہ رجسٹریشن کراتا ہے، پھر ایندھن کا ٹوکن حاصل کرتا ہے اور اسے پیٹرول پمپ پر استعمال کرکے رعایتی نرخ پر ایندھن لیتا ہے۔
سرکاری فی لیٹر نرخ سے 100 روپے کی رعایت دی جائے گی۔ موٹرسائیکل اور تین پہیہ گاڑیوں کو 5 لیٹر (7 دن کے لیے) اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کو 10 لیٹر (10 دن کے لیے) رعایتی پٹرول ملے گا۔
نہیں، قیمت مقرر نہیں بلکہ اس دن کے سرکاری نرخ سے 100 روپے فی لیٹر کم وصول کیا جائے گا۔ یعنی پٹرول کی قیمت بڑھنے یا گھٹنے کے ساتھ رعایتی نرخ بھی تبدیل ہوگا، فرق ہمیشہ 100 روپے رہے گا۔
تین مراحل: پہلے SMS کے ذریعے ایک بار رجسٹریشن، پھر پمپ جانے سے پہلے TOK لکھ کر ٹوکن کا حصول، اور آخر میں وہی ٹوکن نمبر پمپ پر دکھا کر رعایتی پٹرول کا حصول (اوپر “طریقہ کار کے 3 مراحل” میں تفصیل دیکھیں)۔
موٹرسائیکل، رکشہ اور دیگر تین پہیہ گاڑیاں، اور 800 سی سی تک کی موٹر کاریں اس اسکیم میں شامل ہیں۔
جی ہاں۔ موٹرسائیکل اور تین پہیہ گاڑیوں کی رجسٹریشن یکم جنوری 2011 یا اس کے بعد کی ہونی چاہیے، جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کی رجسٹریشن یکم جنوری 2006 یا اس کے بعد کی ہونی چاہیے۔
مقرر کردہ اہلیت کے مطابق ایسی گاڑی اسکیم میں شامل نہیں ہو سکتی۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کا کیس مختلف ہے تو حتمی تصدیق کے لیے ہیلپ لائن 9771 پر رابطہ کریں۔
رجسٹریشن اور ٹوکن حاصل کرنے کا SMS طریقہ کار دونوں کے لیے یکساں ہے۔ فرق صرف اہلیت کی تاریخ، رعایتی مقدار اور ملکیت کی شرط میں ہے — 800 سی سی تک کی گاڑی درخواست گزار کے اپنے نام پر رجسٹرڈ ہونی ضروری ہے، جبکہ موٹرسائیکل/رکشہ کے لیے یہ شرط لازم نہیں۔
گاڑی درخواست گزار کے اپنے نام پر رجسٹرڈ ہونی چاہیے، یعنی رجسٹریشن اسی مالک کے شناختی کارڈ اور موبائل نمبر سے کروانی ہوگی۔ پمپ پر لین دین کی حتمی شرائط کے لیے ہیلپ لائن سے رہنمائی لی جا سکتی ہے۔
چونکہ موٹرسائیکل/رکشہ کا مالک کے نام پر رجسٹرڈ ہونا لازم نہیں، اس لیے ٹوکن نمبر رکھنے والا کوئی بھی فرد پمپ پر جا کر رعایتی پٹرول حاصل کر سکتا ہے، بشرطیکہ ٹوکن اسی گاڑی نمبر سے جاری ہوا ہو۔
REG لکھ کر شناختی کارڈ نمبر، گاڑی کا نمبر، صوبائی کوڈ اور رجسٹریشن کی تاریخ (DDMMYYYY) درج کر کے 9771 پر بھیجیں۔ رجسٹریشن ایک ہی بار کروانی ہوتی ہے؛ اس کے بعد صرف ہر 10 دن بعد نیا ٹوکن حاصل کرنا ہوگا، دوبارہ رجسٹریشن درکار نہیں۔
نہیں، درخواست صرف اسی موبائل نمبر سے دی جا سکتی ہے جو درخواست گزار کے اپنے شناختی کارڈ (CNIC) پر رجسٹرڈ ہو۔
گاڑی کی نمبر پلیٹ پر درج نمبر بعینہ اسی ترتیب میں SMS میں شامل کریں، جیسا کہ رجسٹریشن دستاویزات پر لکھا ہے۔
I = اسلام آباد، A = آزاد کشمیر، G = گلگت بلتستان، S = سندھ، P = پنجاب، K = خیبرپختونخوا، B = بلوچستان۔ گاڑی جس صوبے میں رجسٹرڈ ہے اسی کا کوڈ درج کریں۔
گاڑی کی رجسٹریشن کی تاریخ درج کریں، اس فارمیٹ میں: پہلے دو ہندسے دن (DD)، اگلے دو ہندسے مہینہ (MM)، اور آخری چار ہندسے سال (YYYY) — یعنی DDMMYYYY۔
سرکاری اعلان کے مطابق اسلام آباد میں پیر اور منگل کی درمیانی شب سے، جبکہ ملک کے باقی حصوں میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سے ریلیف کا اطلاق شروع ہوگا۔ رجسٹریشن کی سہولت جاری رہے گی تاکہ نئے اہل شہری بھی شامل ہو سکیں؛ تازہ ترین حیثیت کے لیے 9771 ہیلپ لائن سے تصدیق کر لیں۔
رجسٹریشن کے بعد، پمپ جانے سے پہلے TOK لکھ کر 9771 پر بھیج دیں۔ جواب میں ایک 10 ہندسوں کا ٹوکن نمبر، آپ کی گاڑی کا نمبر، مقررہ کوٹہ اور میعادِ استعمال (میعاد ختم ہونے کی تاریخ) موصول ہوگی۔
موٹرسائیکل/رکشہ کے لیے 5 لیٹر، اور 800 سی سی تک کی گاڑی کے لیے 10 لیٹر رعایتی پٹرول ایک ٹوکن پر ملتا ہے۔ ٹوکن بالترتیب 7 اور 10 دن تک قابلِ استعمال رہتا ہے، اس کے بعد نیا ٹوکن حاصل کرنا ضروری ہوگا۔
ایک ٹوکن کی میعاد (7 یا 10 دن) ختم ہونے کے بعد ہی نیا ٹوکن حاصل کیا جا سکتا ہے۔ پرانا ٹوکن موجود ہوتے ہوئے نیا ٹوکن جاری ہوگا یا نہیں، اس کی حتمی وضاحت کے لیے ہیلپ لائن 9771 سے رجوع کریں۔
میعاد ختم ہونے پر ٹوکن غیر فعال ہو جاتا ہے اور اس کا کوٹہ اگلے ٹوکن میں منتقل نہیں ہوتا۔ استعمال کے لیے میعاد کے اندر پمپ جا کر ٹوکن دکھانا ضروری ہے، ورنہ نیا ٹوکن حاصل کرنا پڑے گا۔
اپنا 10 ہندسوں کا ٹوکن نمبر پمپ کے نمائندے کو دکھائیں۔ تصدیق کے بعد آپ کو فی لیٹر 100 روپے کی فوری رعایت کے ساتھ، اپنے کوٹے کی حد تک، رعایتی نرخ پر پٹرول دیا جائے گا۔
نہیں۔ ٹوکن آپ کی رجسٹرڈ گاڑی کے نمبر سے منسلک ہوتا ہے، اس لیے یہ صرف اسی گاڑی کے لیے قابلِ استعمال ہے اور کسی دوسری گاڑی پر رعایت کے لیے استعمال نہیں ہو سکتا۔
24/7 رہنمائی و شکایت سیل
حکومتِ پاکستان کی خصوصی کال سینٹر ٹیم شہریوں کی ہر ممکن رہنمائی کے لیے ہر وقت حاضر ہے۔
کسی بھی موبائل نیٹ ورک سے براہِ راست ملائیں۔
کسی بھی موبائل نیٹ ورک سے براہِ راست ملائیں۔