زمین کھا گئی آسمان کیسے کیسے! سابق افغان کرکٹر شاپور زادران 38 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
افغانستان کرکٹ کے سابق فاسٹ بولر شاپور زادران کے انتقال کی خبر نے دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کو غمزدہ کر دیا۔ وہ صرف 38 سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔
رپورٹس کے مطابق شاپور زادران گزشتہ تقریباً پانچ ماہ سے بھارت میں زیرِ علاج تھے، جہاں وہ ایک نہایت نایاب اور خطرناک بیماری ہیموفیگوسائٹک لیمفو ہسٹیوسائٹوسس (Hemophagocytic Lymphohistiocytosis – HLH) کا علاج کروا رہے تھے۔
شاپور زادران کون تھے؟
شاپور زادران افغانستان کرکٹ ٹیم کے ابتدائی دور کے نمایاں فاسٹ بولرز میں شمار کیے جاتے تھے۔ انہوں نے افغانستان کرکٹ کو عالمی سطح پر متعارف کروانے میں اہم کردار ادا کیا اور اپنی جارحانہ بولنگ سے کئی یادگار فتوحات میں حصہ لیا۔
ان کی خدمات کو افغانستان کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
ایچ ایل ایچ (HLH) کیا بیماری ہے؟
ہیموفیگوسائٹک لیمفو ہسٹیوسائٹوسس (HLH) ایک نہایت نایاب مگر جان لیوا بیماری ہے۔
اس بیماری میں جسم کا مدافعتی نظام غیر معمولی حد تک فعال ہو جاتا ہے۔ عام حالات میں مدافعتی نظام وائرس، بیکٹیریا اور دیگر جراثیم سے لڑتا ہے، لیکن HLH میں یہی نظام جسم کے اپنے صحت مند خلیوں اور اعضاء پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔
اس کے نتیجے میں جگر، تلی، بون میرو اور دیگر اہم اعضاء متاثر ہو سکتے ہیں، اور اگر بروقت تشخیص اور علاج نہ ہو تو یہ بیماری جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
اس بیماری کی علامات
- مسلسل تیز بخار
- شدید کمزوری اور تھکن
- وزن میں تیزی سے کمی
- جگر یا تلی کا بڑھ جانا
- خون کے خلیات کی تعداد میں کمی
- جسم میں شدید سوزش
کن افراد کو یہ بیماری لاحق ہو سکتی ہے؟
یہ بیماری زیادہ تر بچوں میں دیکھی جاتی ہے، لیکن بالغ افراد بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں، خصوصاً:
- جن کا مدافعتی نظام کمزور ہو۔
- کینسر یا دیگر سنگین بیماریوں کا شکار رہ چکے ہوں۔
- بعض شدید انفیکشنز کے بعد بھی یہ بیماری پیدا ہو سکتی ہے۔
دنیا بھر میں افسوس کا اظہار
شاپور زادران کے انتقال پر دنیا بھر کے سابق اور موجودہ کرکٹرز، شائقین اور کرکٹ بورڈز نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہیں افغانستان کرکٹ کے ان کھلاڑیوں میں شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود اپنے ملک کو عالمی کرکٹ میں نمایاں مقام دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
دعا
اللہ تعالیٰ مرحوم شاپور زادران کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
