ایرانی سپریم لیڈر Ayatollah Ali Khamenei کو کیسے ٹریک کرکے نشانہ بنایا گیا؟ امریکی اخبار The New York Times نے ایک تہلکہ خیز دعویٰ کیا ہے جس نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید ہوا دے دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی Central Intelligence Agency (سی آئی اے) کئی ماہ سے ایرانی سپریم لیڈر کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھی۔ اخبار کا دعویٰ ہے کہ سی آئی اے نے نہ صرف آیت اللہ خامنہ ای کے روزمرہ معمولات بلکہ ان کے ممکنہ خفیہ ٹھکانوں اور سیکیورٹی پروٹوکولز سے متعلق بھی تفصیلی معلومات حاصل کر لی تھیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تہران میں واقع قیادت کے ایک خفیہ کمپاؤنڈ میں اعلیٰ سطحی اجلاس کی پیشگی اطلاع امریکا کو مل چکی تھی۔ امریکی انٹیلی جنس ذرائع نے اس اجلاس کی نشاندہی کی اور وہاں موجود اہم شخصیات کی موجودگی کی تصدیق کے بعد مبینہ طور پر یہ معلومات اسرائیل کو فراہم کی گئیں۔
اخبار کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے آیت اللہ خامنہ ای کی موجودگی کی تصدیق کے بعد حملے کے وقت میں تبدیلی بھی کی تاکہ ہدف کو یقینی بنایا جا سکے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام نے امریکی انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کی منصوبہ بندی کی۔ تاہم اس حوالے سے نہ تو امریکی حکومت اور نہ ہی اسرائیلی حکام کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے آئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک بڑی پیش رفت ہوگی، کیونکہ کسی ملک کے سپریم لیڈر کی براہ راست نگرانی اور ان کی لوکیشن شیئر کرنا غیر معمولی اقدام سمجھا جاتا ہے۔ دوسری جانب ایرانی حکام نے ان خبروں کو “من گھڑت پروپیگنڈا” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دشمن نفسیاتی جنگ کے ذریعے ایران کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتا ہے۔
علاقائی مبصرین کے مطابق اس نوعیت کی رپورٹس نہ صرف سفارتی تعلقات پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہیں بلکہ خطے میں جاری عسکری تناؤ کو بھی مزید بڑھا سکتی ہیں۔ عالمی برادری کی نظریں اب واشنگٹن اور تل ابیب کے ممکنہ ردعمل پر مرکوز ہیں۔
