ایران کا اسرائیل پر ایک اور بڑا حملہ سامنے آیا ہے جس کے نتیجے میں 9 اسرائیلی ہلاک اور کم از کم 20 زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے مقبوضہ بیت المقدس کے نواحی شہر Beit Shemesh پر میزائل حملہ کیا، جہاں ایک عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی جبکہ متعدد رہائشی مکانات کو شدید نقصان پہنچا۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایرانی میزائل نے علاقے میں قائم ایک عوامی شیلٹر کو براہِ راست نشانہ بنایا، جس کے باعث جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔ ریسکیو حکام کے مطابق ملبے تلے سے مزید لاشیں نکالی گئیں، جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 9 تک پہنچ گئی جبکہ 20 سے زائد زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
عرب ذرائع ابلاغ کا دعویٰ ہے کہ بیت شمش کے علاقے میں حساس تنصیبات بھی موجود ہیں، جن میں اسرائیل کے دفاعی اور ممکنہ طور پر نیوکلیئر پروگرام سے متعلق تنصیبات شامل ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب ایران نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی اڈوں کے خلاف نئے حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ حملے سپریم لیڈر Ayatollah Ali Khamenei کی مبینہ شہادت کے بعد کیے گئے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کے اہداف میں اسرائیل کا ملٹری ہیڈکوارٹر، تل ابیب میں ایک دفاعی صنعت کا کمپلیکس اور خطے میں موجود 27 امریکی اڈے شامل تھے۔
رپورٹس کے مطابق عراقی کردستان کے شہر Erbil میں واقع ایک امریکی بیس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اسی دوران متحدہ عرب امارات کے شہر Dubai کے علاقوں مرینا اور اسپورٹس سٹی میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاعات ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق متعدد میزائل فضا میں ہی ناکارہ بنا دیے گئے، تاہم ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو افراد زخمی ہوئے۔
قطر کے دارالحکومت Doha میں بھی 11 دھماکوں کی آوازیں سننے کی غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد خطے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
تاحال اسرائیلی یا امریکی حکام کی جانب سے ان حملوں کی مکمل تفصیلات یا نقصانات کی سرکاری تصدیق جاری نہیں کی گئی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ حملے اسی شدت سے جاری رہے تو مشرقِ وسطیٰ ایک وسیع علاقائی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔