Home Urdu News عامر لیاقت کی زندگی سے متعلق

عامر لیاقت کی زندگی سے متعلق

0
عامر لیاقت کی زندگی سے متعلق

 معروف ٹی وی میزبان اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین انتقال کرگئے، وہ اپنے گھر میں مردہ پائے گئے۔

اطلاعات کے مطابق عامر لیاقت حسین کے کمرے کا دروازہ بند تھا جسے گھر کے ملازمین کافی دیر سے کھٹکھٹا رہے تھے، بعدازاں دروازہ زبردستی کھولا گیا تو عامر لیاقت حسین مردہ حالت میں پائے گئے۔ انہیں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کے انتقال کی تصدیق ہوگئی۔

پوسٹ مارٹم کے لیے لاش جناح اسپتال منتقل

پولیس کا موقف ہے کہ موت کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے ان کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرایا جائے گا، فی الحال ان کا گھر سیل کرکے شواہد جمع کیے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ انہیں مردہ حالت میں اسپتال لایا گیا، موت کے آدھے گھنٹے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔

عامر لیاقت کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے جناح اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں موت کی وجوہات کے تعین کے لیے مختلف ٹیسٹ کیے گئے تاہم موت حتمی وجہ کے تعین کے لیے پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔ پوسٹ مارٹم ڈاکٹر سمیعہ کی نگرانی میں تین رکنی بورڈ کرے گا۔ دو میل میڈیکولیگل افسر بورڈ میں شامل ہیں۔

عامر لیاقت کے ملازم کا بیان ہے کہ انہیں رات سے ہی سینے میں تکلیف تھی، ہم نے رات کو ہی انہیں اسپتال لے جانے کا کہا مگر انہوں ںے منع کر دیا تھا، کمرے میں انہیں مردہ حالت میں پایا تو شور مچایا جس پر اہل محلہ جمع ہوگئے جن کی مدد سے عامر لیاقت کو اسپتال منتقل کیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی

ان کے انتقال پر قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کردیا گیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ افسوس ناک خبر ملی ہے کہ رکن اسمبلی عامر لیاقت کا انتقال ہوگیا، ایوان کی کارروائی فوری روکنی چاہیے۔ انہوں ںے عامر لیاقت کے انتقال کے باعث قومی اسمبلی کا اجلاس کل شام پانچ بجے تک ملتوی کردیا۔

ان کے انتقال پر صدر، وزیراعظم، وزیر خارجہ اور سیاسی شخصیات نے نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ان کی ناگہانی موت پر افسوس کا اظہار کیا اور مرحوم کے لیے دعائے مغفرت و  بلند درجات کے لیے دعا کی۔ انہوں نے مرحوم کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی اور صبر جمیل کی بھی دعا کی۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے انتقال پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے ڈاکٹر عامر لیاقت کے لیے دعائے مغفرت کی ہے اور کہا ہے کہ اللہ تعالی مرحوم کے درجات بلند کرے اور سوگواران کو صبر جمیل عطا کرے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے صحافت سے لے کر سیاست تک ایک متحرک زندگی گزاری، ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے تحریر و تقریر سے لے کر زندگی کے مختلف شعبہ جات میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، ان کے انتقال کی خبر سے سخت صدمہ ہوا۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے عامر لیاقت کے انتقال پر افسوس اور اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ڈاکٹر عامر لیاقت کے انتقال کی خبر انتہائی افسوس ناک ہے۔ آصف زرداری نے ڈاکٹر عامر لیاقت کی مغفرت اور بلند درجات کے لیے دعا بھی کی ہے۔

عامر لیاقت کی زندگی سے متعلق

عامر لیاقت سال 2002 سے سال 2007 کے درمیان رکن قومی اسمبلی رہے اور انھیں پرویز مشرف کے دور حکومت میں مذہبی امور کا وزیر بنایا گیا، تاہم 2018 کے انتخابات میں وہ پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر دوبارہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے دوران انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کا ساتھ مارچ 2022 میں چھوڑ دیا تھا، جس پر عوام کی طرف سے عامر لیاقت کو لوٹا اور غدار کہا گیا۔

عامر لیاقت حسین نے پہلی شادی سیدہ بشریٰ اقبال سے کی تھی، جن سے ان کے دو بچے ہیں۔ تاہم یہ تعلق 2020ء میں طلاق کی صورت ختم ہوگیا۔

اسکے بعد 2018ء میں پاکستانی ماڈل اور اداکارہ سیدہ طوبیٰ سے دوسری شادی کی، سیدہ طوبیٰ رمضان ٹرانسمیشن میں عامر لیاقت کے ساتھ بطور میزبان بھی نظر آئیں۔ فروری 2022ء میں سیدہ طوبیٰ انور نے خلع لے لیا۔ 5 فروری 2022ء کو ضلع لودھراں کے موضع ڈانوراں سے تعلق رکھنے والی 18 سالہ سیدہ دانیہ شاہ سے تیسری شادی کی اور یہ شادی بھی زیادہ دیر نہ چل سکی۔

Education Template