Home Urdu News “اشتہار کا سائز تھوڑا کم رکھ لیتے تو زہر کے پیسے نکل آتے”گزشتہ روز وزیر مملکت برائے پیٹرولیم کے بیان پر سوشل میڈیا صارفین میدان میں آ گئے

“اشتہار کا سائز تھوڑا کم رکھ لیتے تو زہر کے پیسے نکل آتے”گزشتہ روز وزیر مملکت برائے پیٹرولیم کے بیان پر سوشل میڈیا صارفین میدان میں آ گئے

0
“اشتہار کا سائز تھوڑا کم رکھ لیتے تو زہر کے پیسے نکل آتے”گزشتہ روز وزیر مملکت برائے پیٹرولیم کے بیان پر سوشل میڈیا صارفین میدان میں آ گئے

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت اتحادی حکومت کو وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ ترکی کے بارے میں اخبارات میں اشتہارات دینے پر سوشل میڈیا صارفین کی سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف آج ترکی کے 3 روزہ دورے پر روانہ ہوئے ہیں، ان کے دورے کی مناسبت سے آج ملک کے مؤقر روزناموں کے صفحہ اول پر دورۂ ترکی سے متعلق بڑے بڑے اشتہارات شائع ہوئے۔ ایسے میں کہ جب ملک سنگین معاشی مشکلات کا سامنا کررہا ہے، ایندھن، خوراک، بجلی اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی نے عوام کو بری طرح متاثر کیا ہے، حکومت کی جانب سے ایسے اشتہارات کی اشاعت نے عوام میں اضطراب اور غصے کی کیفیت پیدا کردی ہے۔ خاص کر جب کہ ایک روز قبل ہی وزیر مملکت برائے پیٹرولیم کی جانب سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم میں دیے گئے اس بیان کا خوب چرچا رہا کہ ‘حکومت کے پاس تو زہر کھانے کے بھی پیسے نہیں ہیں’۔ جبکہ اس سے قبل آٹے کی قیمت عوام کی دسترس سے باہر ہونے پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ‘اپنے کپڑے بیچ کر عوام کو آٹا مہیا کروں گا’۔ چنانچہ آج مختلف اخبارات میں اشتہارات کی اشاعت پر عوام نے انہی بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کو طنز کا نشانہ بنایا۔معروف صحافی ابصا کومل نے مختلف اردو اخبارات میں شائع ہوئے اشتہارات کی کولاج تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ‘زہر کھانے کے پیسے نہیں، اشتہار نکالنے کے ہیں؟’پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیراطلاعات فواد چوہدری نے ٹوئٹ کی کہ ‘حکومت کا پیسہ تماش بین عیاشیوں پر لٹا رہے ہیں، حکومت ترقیاتی بجٹ روک کر میڈیا کو اشتہار دے رہی ہے اس سے احمقانہ پالیسی کیا ہو گی؟ ‘۔سابق سفارتکار ظفر ہلالی نے لکھا کہ ‘اگر اس اشتہار بازی پر آپ کے دل کو درد نہ پہنچا ہو تو اپنی حب الوطنی پر ڈر جاؤ, آپ کے پاکستانی ہونے پر مجھے اعتراض ہے’۔ایک سوشل میڈیا صارف نے مصدق ملک کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ‘اشتہار کا سائز تھوڑا کم کر لیتے تو زہر کے پیسے نکل آتے’۔صحافی و ادیب حسنین جمال نے حکومت کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘پیسے نہیں ہیں ہمارے پاس ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پہ کام کریں، کم خرچ بالا نشیں سین بنے گا’۔پی ٹی آئی کے رہنما شہباز گل نے کہا کہ ‘ساری دنیا ایسی بھونڈی حرکت کا مذاق اڑا رہی ہے، لگتا ہے کسی ایئرلائن کا اشتہار ہے لیکن آپ نے ابھی بھی یہی کہنا ہے کہ کیا (میڈیا) مینجمنٹ ہے کیونکہ مال مل رہا ہے’۔صحافی فرحان محمد خان نے ٹوئٹ کیا کہ ‘اشتہارات پر کروڑوں خرچ کردیے، فیصلے سیاسی،معاشی یا انتظامی ہوں،پستے عوام ہی ہیں، یہ حکمراں اپنے خرچوں، اپنے ششکوں پر کبھی سمجھوتا نہیں کرتے۔ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ ‘کل جو واویلا کر رہے تھے کہ زہر کھانے کو پیسہ نہیں ہے انہوں نے 24 گھنٹوں بعد کروڑوں کے اشتہار بانٹ دیے’۔واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کو اشتہارات پر پہلی مرتبہ تنقید کا سامنا نہیں کرنا پڑا بلکہ اس کی حریف جماعت پاکستان تحریک انصآف (پی ٹی آئی) طویل عرصے سے (ن) لیگ پر میڈیا اداروں کو اشتہار دے کر ان پر اثر انداز ہونے کے الزامات لگاتی آئی ہے۔یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کہ ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی نے ان اشتہارات کی اشاعت کے سلسلے میں حکومتی مؤقف لینے کے لیے وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب سے رابطہ کرنے کی کوشش کی اور انہیں سوال ارسال کردیا تھا تاہم اس رپورٹ کی اشاعت تک اُن کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

Education Template