میڈیا رپورٹس کے مطابق 8 سالہ بچی کا تعلق مظفر گڑھ سے تھا جسے گھر کے مالک حسان صدیقی اور ان کی اہلیہ نے اپنے بیٹے کی دیکھ بھال کے لیے رکھا ہوا تھا۔

پولیس کے مطابق حسان صدیقی کا طوطے فروخت کرنے کا کاروبار تھا اور ا نھوں نے گھر پر بھی طوطے رکھے ہوئے تھے۔

حسان صدیقی کے گھر میں کام کرنے والی 8 سالہ ملازمہ ایک پنجرے کی صفائی کر رہی تھی کے اس دوران پنجرہ اچانک کھلنے سے دو طوطے اڑ گئے جس پر وہ اور ان کی اہلیہ طیش میں آگئے اور بچی کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ حسان صدیقی بچی کو اسپتال منتقل کرنے کے بعد فرار ہوگئے تھے مگر بروقت کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس حکام کے مطابق اسپتال میں بچی کو فوری طور پر انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں منتقل کیا گیا اور وینی لیٹر پر رکھا گیا لیکن بچی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اگلے روز ہی انتقال کر گئی۔

میڈیکل رپورٹ کے مطابق بچی پر وحشیانہ تشدد کیا گیا جس کے باعث اس کے گال، پسلیوں اور رانوں پر گہرے زخموں کے نشانات تھے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جن حصوں پر زخموں کے نشان ہیں ان سے ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے بچی کے ساتھ عصمت دری بھی کی گئی ہے۔

The brutal couple killed the 8-year-old maid  درندہ صفت میاں بیوی نے 8 سالہ ملازمہ کو جان سے مار ڈالا 24 300x225

Sharing is caring share post
Share this