پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر نوشین حامد نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ پاکستان چین کی طرزکا لاک ڈاؤن نہیں کرسکتا کیونکہ ہم نے لاک ڈاؤن بھی کرنا ہے اور معیشت کو بھی بچانا ہے لہٰذا کورونا سے بچاؤکا واحد حل ایس او پیز پر عملدرآمد ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب وبا آئی تو 2200 وینٹی لیٹرز تھے لیکن اب ایسا نہیں، چین سے 1473 وینیٹی لیٹرز آرہے ہیں جس میں سے 341 وینٹی لیٹرز مل چکے ہیں اور 15 جون تک 245 مزید وینٹی لیٹرز چین سے مل جائیں گے۔

نوشین حامد کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے وفاقی حکومت نے تمام صوبوں کو 250 وینٹی لیٹرز فراہم کیے ہیں اس کے علاوہ حکومت نجی اسپتال کے ساتھ وینٹی لیٹر کے حوالے سے معاہدہ کرنے جا رہی ہے، ایم اویو کے تحت پرائیوٹ اسپتالوں میں داخل کورونا مریضوں کے اخراجات حکومت ادا کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ ہم 25 سے 30 ہزار ٹیسٹ روزانہ کر رہے تھے لیکن اب ہم نے 46 ہزارٹیسٹ روزانہ کی صلاحیت حاصل کرلی ہے اور ساتھ ہی ایک ہزار مزید آئی سی یوبیڈز کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔

نوشین حامد کا کہنا تھا کہ پاکستان اب اپنے این 95 ماسک بنانے کی پوزیشن میں بھی آچکا ہے۔

ایوان میں اپوزیشن کی تنقید پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ وزیراعظم کورونا کے معاملے پر فرنٹ سے لیڈ کر رہے ہیں مگر اپوزیشن کی باتوں سے لگتا ہے حکومت کورونا کے معاملے پر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھی ہے۔

Pakistan in position to make its own N95 mask  پاکستان اپنے این 95 ماسک بنانے کی پوزیشن میں آگیا 35 1 300x300

Sharing is caring share post