سندھ اسمبلی میں محمدﷺ کے نام کیساتھ خاتم النبیین لگانے سے متعلق قرارداد پیش

ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی محمد حسین نے اسمبلی میں قرارداد پیش کی۔

قرارداد کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری نبی ہیں، ان کا نام آئے تو اس کے ساتھ خاتم النبیین ضروری طور پر لکھا اور پڑھا جائے۔

صوبائی وزیراطلاعات سید ناصر حسین شاہ نے قرارداد کی تائید کی جب کہ اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی فردوس شمیم نقوی نے بھی قرار داد پیش کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد کی حمایت کرتا ہوں۔

خیال رہے کہ چند روز قبل پنجاب اسمبلی میں بھی ایک قرارداد منظور کی گئی تھی جس کے مطابق صوبے سے ایسی کتابوں کی اشاعت پر پوری پابندی عائد کی جائے گی جس میں حضرت محمد ﷺ اور صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کی گئی ہو۔

A resolution was tabled in the Sindh Assembly regarding the installation of Khatam-un-Nabiyyin in the name of Muhammad [object object] سندھ اسمبلی میں محمدﷺ کے نام کیساتھ خاتم النبیین لگانے سے متعلق قرارداد پیش 39 1 288x300

جامعات میں قرآن پاک ترجمے کے ساتھ پڑھانے کا فیصلہ

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کا کہنا تھا کہ قرآن مجید ہمارے لیے اصل رہنمائی کا ذریعہ ہے اور قرآن پاک کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہی دنیا اور آخرت سنواری جا سکتی ہے۔

چوہدری محمد سرور نے کہا کہ پنجاب کی تمام جامعات میں قرآن پاک کی معنی کے ساتھ تعلیم کا فیصلہ کیا ہے۔

گورنر پنجاب نے کہا کہ پنجاب کی جامعات میں قرآن پاک کی معنی کے ساتھ تعلیم کو لازمی قرار دیا جا رہا ہے۔

جامعات میں قرآن پاک ترجمے کے ساتھ پڑھانے کا فیصلہ quranjuz30urdutranslationpdfdownload 161015044118 thumbnail 4 222x300

ایک بھوکے کتے کا سبق آموز واقعہ

ایک بھوکے کتے کا سبق آموز واقعہ
ایک کتا تھا . وہ اپنے مالک کے گھر کی رکھوالی کیا کرتا تھا. حالات کی تنگی کچھ اس طرح تھی کہ مالک کے گھر سے امیری کا جنازہ نکل گیا. غربت عروج پر آگئی. گھر فاقہ ہی فاقہ چھا گیا. چار دن گزر گئے مالک نے کتے کو کچھ نہ پھینکا.جب کہ خود کچھ نہ کچھ کھاتا ہی رہا. ایک لمحہ ایسا بھی آیا کہ وہ کچھ نہ کچھ بھی بند ہوگیا. کتا بھوک سے ستایا ہوا مالک مرتا کیا نہ کرتا. گھر سے نکلا گیا ایک نصرانی کے دروازے پر جا کر اس نے دستک دی کہا کہ بھوکا ہوں روٹی چاہیے. اس نصرانی نے دو روٹیاں دیں. وہ روٹیاں لے کر مالک گھر آیا چار دن کی بھوک کے ستائے ہوئے کتے کو بھی ایک روٹی ڈال دی. ایک روٹی خودکھانے لگا جب اس نے کتے کو ایک روٹی ڈالی تو کتے کو اللہ نے بولنے کی طاقت عطا فرمائی اس مالک نے کتے کو ایک روٹی پھینکیں کتا بول ہی پڑا. مالک مجھے اب پتا چلا ہے کہ غربت کے ساتھ ساتھ تیری شرم و حیا کا بھی جنازہ نکل چکا ہے.مالک نے حیران ہو کر کہا سے کتے وہ کیسے کتے نے کہا مالک میں چار دن کا بھوکا ہوں . چار دن گزر گئے ہیں تو نے مجھے کھانے کو کچھ نہ دیا . چار دن کی بھوک میں نے برداشت کرلیں مگر میں تیرے در کو چھوڑ کر کسی اور کے در پے نہیں گیا اور نہ ہی میں نے کسی سے کچھ مانگا نہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلایا مالک تو تو اشرف المخلوقات میں کتا ہو مگر میں پھر بھی اتنی عقل فتح ہو کے مجھے جو کچھ ملے گا اپنےمالک کے در سے ملے گا. مجھے اس بات کا یقین تھا کہ مجھے جب بھی ملے گا میرے مالک کے در سے ہی ملے گا . افسوس صد افسوس کہ تو اپنے مالک کے دروازہ پے جانے کی بجائے اس نصرانی کے دروازہ پے چلا گیا . اے نوجوانوں میں تمہیں بتا رہا ہوں ان چودھریوں کے دروازے پر جا کر مانگنا چھوڑ دو اپنے مالک کے دروازے پہ جاؤ اس کے آگے سجدہ ریز ہو جاؤ اور یقین رکھو کھو کہ اس اللہ کے سوا کوئی رزق نہیں دے سکتا نہ ہی تم سے کوئی تمہاری قسمت میں لکھا ہوا رزق تم سے چھین سکتا ہے.

محمد ،ﷺ کی دعاحضرت ابو ہریرہ کا واقعہ

ایک دفعہ حضرت ابو ہریرہ محمد ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوے اور عرض کی حضور (PBUH) میری والدہ آپ کو بہت برا بھلا اور گالیاں بھی بکتی ہے آپ ان کے حق میں دعا کریں کہ الله انھیں ہدایت عطا کرے حضرت محمّد (PBUH) نے بات سنی اور آسمان کی جانب ہاتھ بلند کرتے ہوے دعا شروع کی تھی کہ حضرت ابو ہریرہ اپنے گھر کی جانب دھوڑے . تمام صحابہ دیکھ کے حیران ہوے کہ ابو ہریرہ کو تو حضور (PBUH) کے ساتھ بیٹھ کے دعا میں شامل ہونا چاہئیے تھا مگر وہ اپنے گھر کی طرف بھاگ گئے . جب ابو ہریرہ اپنے گھر پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹایا ان کی والدہ غسل فرما رہی تھی جب وہ غسل سے فارغ ہوئی تو انہوں نے جب دروازہ کھولا تو ابو ہریرہ یہ دیکھ کے حیران رہ گئے کہ میری والدہ جو حضور (PBUH) کو گالیاں بکتی تھی وہ آج انہی کا کلمہ پڑھ رہی تھی. جب ابو ہریرہ نے پوچھا تو ان کی والدہ نے انھیں بتایا کہ تمہارا نبی میرے پاس آے اور مجھے فرمایا کہ کیا تمہیں اچھا لگے گا کہ بیٹا جنّت میں ہو اور اس کی ماں جہنم میں . میں نے اسی وقت کلمہ پڑھ لیا اور مسلمان ہو گئی .حضرت ابو ہریرہ واپس محمد ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوے. تمام صحابہ نے حضرت ابو ہریرہ سے پوچھا کہ آپ کو تو حضور محمد ﷺ کے ساتھ بیٹھ کر دعا میں شامل ہونا چاہئیے تھا اور آپ اپنے گھر کی جانب دھوڑ گئے یہ ماجرا کیا ہے؟.
حضرت ابو ہریرہ نے فرمایا میں یہ دیکھ رہا تھا کے میں پہلے پہنچتا ہوں کے میرے نبی کی دعا مجھ سے پہلے پہنچتی ہے.