یاد رہے کہ عالمی وبا کی شکل اختیار کرنے والے کورونا وائرس کے علاج کے لیے ابھی تک کوئی ویکسین دستیاب نہیں ہے تاہم امریکا کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے ہنگامی بنیادوں پر گیلیڈ سائنسز کی ایبولا وائرس کے لیے تیار کی گئی دوا ‘رمڈیسویر’ کورونا کے مریضوں کو دینے کی اجازت دی تھی۔

مذکورہ دوا کو کلینیکل ٹرائلز کے دوران کورونا کے مریضوں کے لیے بھی مؤثر پایا گیا تھا۔

گیلیڈ نے گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ وہ دوا کو ترقی پذیر ممالک میں پہنچانے کے لیے پاکستان اور بھارت کی مختلف کمپنیوں سے بات چیت کر رہی ہے۔

اب اس حوالے سے ہونے والے معاہدے کے تحت پاکستانی دواساز کمپنی فیروز سنز لیباٹریز، 3 بھارتی کمپنیاں سپلا لمیٹڈ، ہیٹرو لیبز لمیٹڈ،جوبیلنٹ لائف سائنسز اور ایک امریکی کمپنی مےلین،’رمڈیسویر’ دوا تیار کرکے دنیا کے 127 ممالک میں فروخت کر سکیں گی۔

127 ممالک کی فہرست میں تقریباً تمام کم اور متوسط آمدنی والے ممالک شامل ہیں جب کہ زیادہ آمدن والے کچھ ممالک میں بھی یہ دوا فروخت کرنے کی اجازت دی گئی جہاں صحت کی سہولیات اچھی نہیں ہیں۔

معاہدے کے تحت پانچوں کمپنیوں کو گیلیڈ کی جانب سے رمڈیسویرکی تیاری کے لیے ٹیکنالوجی کے حصول کی بھی اجازت ملی ہے تاکہ وہ اس دوا کی تیاری کو تیز کر سکیں اور حجم کو بڑھا سکیں۔

معاہدے کے تحت پانچوں کمپنیاں دوا کی قیمت بھی خود طے کرنے کی مجاز ہوں گی۔

Gilead contacts Pakistan for corona medicine  گیلیڈ کا کورونا کی دوا بنانے کیلئے پاکستان سے رابطہ 3 1

Sharing is caring share post
Share this