جہاں آج کل کرونا وائرس کی بہت خبر سوشل میڈیا پہ اثر دکھائے ہیں وہی یہ الیکٹرونک میڈیا میں زیر گردش ہیں ٹی وی سکرین میں ہر طرف کرونا کا خوف دکھایا جا رہا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے جسکو کوئی نہیں دیکھا رہا عوامی پوائنٹ نے سوچا کیوں نے عوام کچھ حقائق بتائیں جائیں
اس میں کوئی شک نہیں کے کرونا ایک خطر ناک وائرس ہے لیکن یہ کیوں خطرناک ہے یہ بھی دیکھ لینا چاہیے ان چند وجوہات پہ ہم آج بات کریں گے تاکہ عوام جسکو میڈیا یہ دیکھا رہا ہے کے جیسے کوئی بم ہو
ایسا نہیں ہے
١.سب سے پہلے جو کے اہم چیز ہے اور وائرس کوکو خطر ناک بنا دیتی ہے وه یہ ہے کے انسان اسکی کوئی میڈیسن نہیں بنا سکا کیوں کے یہ وائرس کی ایک نئی شکل ہے جیسے ہی اسکی میڈیسن بن جائے گی اسکی دہشت بھی ختم ہو جائے گی جیسے کے پولیو کی ویکسین بننے سے اسکی دہشت ختم ہوئی تھی
لیکن اسکی دہشت کے اسکی ابھی تک کوئی میڈیسن نہیں بنی اپنی جگہ ہے
لیکن آپ سب کو پتا ہوگا کے جب کوئی بھی بیماری ہم پہ حملہ آور ہوتی ہے یا کوئی بھی وائرس ہم میں داخل ہوتا ہے تو
الله تعالى نے ہمارے اندر ان وائرس کے خلاف لڑنے کے لئے نظام بنایا ہے جو وائرس کے خلاف لڑتا ہے اس نظام کو ہم سفید خلیات بھی کہتے ہیں ابھی تک اس کرونا وائرس کے خلاف ہمارے خلیات ہی مقابلہ کر رہے ہیں کیوں کے آپکو پتا ہوگا یہ سفید خلیات بچوں میں زیادہ ایکٹو ہوتے ہیں اسلئے بچوں میں کرونا ابھی تک اپنا اثر نا چھوڑ سکا تیس سے چالیس سال کے عمر کے لوگ زیادہ کرونا کا شکار ہوۓ اور بہت سے لوگ صحتیاب ہو چکے مطلب یہ الله معاف کرے یہ کرونا کوئی ایسی بیماری نہیں ہے جسکا مقابلہ قدرتی نظام کے سفید خلیات نا کر سکے جسیا کے ایڈز کینسر وغیرہ لیکن یہ سب ہمارا میڈیا نہیں بتاتا کیوں کے میڈیا کی دوکان اس سے نہیں چمکے گی
ہمارا میڈیا عوام کو ڈرا کے اپنی دوکان چمکا رہا جب کے انڈین میڈیا کیسز کے باوجود مجال کہ کوئی خبر دے ہمارا میڈیا ہماری مارکیٹ کریش کروا رہا ماسک کی قیمتیں آسمانوں پہ پہنچانے میں میڈیا کا کردار بھی ہے

٢.کرونا خطرناک کیوں ہے اسکی سب سے بڑی وجہ ہے اسکا تیزی سے پھیلنا ہے نزلہ زکام زیادہ تر تیزی پھیلتا ہے لیکن کرونا نزلے زکام سے ہزار گناہ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے
٣.سوال سے یہ ہے کے کرونا سے انسان کی موت کیسے ہو جاتی کن لوگوں ؟
کیا کرونا وائرس کا شکاڑ ہر بندہ موت کا شکاڑ ہو جائے گا تو اسکا جواب ہے نہیں بلقُل نہیں
کرونا وائرس عام طور ہمارے بزرگ لوگوں کو موت تک پہنچا سکتا کیوں کے ساٹھ سال سے اوپر عمر کے انسان میں سفید خلیات کی مقدار بہت کم ہوتی ہے جو قدرتی توڑ پہ وائرس کے خلاف لڑتے ہیں اس لئے وه کرونا کا مقابلہ نہیں کر پاتے لیکن جیسے ہی اسکی کوئی میڈیسن بن گئی تو ایک خوف کی علامت ختم ہو جائے گی
ہمارے میڈیا کو چاہیے کے وه عوام کو ڈرانے کی بجائے عوام کو حقائق بتائیں
سچ تو یہ ہے انسانی کا قدرتی نظام جو کے بیماری کے خلاف لڑتا ہے وه کرونا کا مقابلہ کر سکتا ہے لیکن مسئلہ جو بڑا ہے وه یہ ہے کرونا کے مریض کو آپکو سرو کرنے کے لئے اپنی احتیاط ضروری ہے
کرونا سے بچنے کی احتیاطی تدابیر
کرونا سانس کی نالی پہ اثر کرتا ہے سوکھے ہونٹ اور زبان پہ اثر دیتا ہے اسلئے اپنی زبان کو گیلے رکھنا چاہیے
یہ ضروری نہیں آپ ماسک لیں آپ اپنے لئے ایک رومال لے سکتے ہیں جسکو گیلا کر لیں تو بہت بہتر ہے
بیمار بندے کے پاس مت جائیں
صبح کی سیر گہرے سانس لیں جو آپکی صحت اور آپکے پھیپھڑوں کے لئے بہت مفید ہیں
کرونا کا خوف اپنے اوپر مت سوار کریں غیر ضروری خبروں کے بازار سے بھی خود کو دور رکھیں

Sharing is caring share post