22 مئی کو لاہور سے کراچی آنے والا پی آئی اے کا بدقسمت طیارہ لینڈنگ سے چند سیکنڈ قبل گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں عملے افراد سمیت 97 مسافر جان بحق ہو گئے تھے۔

حکومت پاکستان کی جانب سے طیارے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی مختلف اداروں کے ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو مختلف زاویوں سے طیارہ حادثے کی تحقیقات کر رہی ہے جب کہ ہوائی جہازوں کے انجن بنانے والی بین الاقوامی کمپنی ائیر نے بھی ماہرین کی ایک ٹیم تحقیقات کے لیے پاکستان بھیجی تھی۔ائیر بس کے ماہرین کی ٹیم 25 مئی کو پاکستان پہنچی تھی اور گزشتہ روز انھوں نے جائے حادثہ اور ائیرپورٹ پر کنٹرول ٹاور کا معائنہ کر کے ضروری شواہد اکٹھے کر لیے تھے۔

اب ذرائع کا بتانا ہے کہ ائیر بس کے ماہرین کی اجازت سے تباہ ہونے والے پی آئی اے طیارے کے ملبے کی منتقلی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔

طیار ہ حادثے کی جگہ سے غیر ضروری ملبہ ہٹانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے، ملبہ ہٹانے کے لیے پاک فضائیہ، سول ایوی ایشن اور پی آئی اے انجینئرنگ، ٹیکنیکل گراؤنڈ سپورٹ اسٹاف موجود ہے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ طیارے کے کیبن، ٹیل اور دیگر حصوں کو منتقل کیا جا رہا ہے جب کہ طیارے کے انجن اور لینڈنگ گیئرز کی منتقلی چند روز بعد ہوگی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ طیارے کے اہم آلات کی جائے حادثے سے منتقلی تحقیقاتی ٹیموں کے کام کی وجہ سے روکی گئی ہے۔

ائیر بس ماہرین کا پاکستانی تحقیقاتی ٹیم پر اعتماد کا اظہار
طیارہ حادثے میں ائیربس ماہرین نے پاکستانی تحقیقاتی ٹیم پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

ائیربس ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان کی طیارہ حادثے کی تفتیشی ٹیم قواعد کے مطابق کام کر رہی ہے، ٹیم پیشہ ورانہ معیار کے مطابق کام کر رہی ہے۔

فرانسیسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اے اے آئی بی اور ادارے کی قیادت کے شکرگزار ہیں۔

Airbus experts express confidence in Pakistani investigation team  ائیر بس ماہرین کا پاکستانی تحقیقاتی ٹیم پر اعتماد کا اظہار 20 1 300x171

Sharing is caring share post
Share this