ایک بھوکے کتے کا سبق آموز واقعہ
ایک کتا تھا . وہ اپنے مالک کے گھر کی رکھوالی کیا کرتا تھا. حالات کی تنگی کچھ اس طرح تھی کہ مالک کے گھر سے امیری کا جنازہ نکل گیا. غربت عروج پر آگئی. گھر فاقہ ہی فاقہ چھا گیا. چار دن گزر گئے مالک نے کتے کو کچھ نہ پھینکا.جب کہ خود کچھ نہ کچھ کھاتا ہی رہا. ایک لمحہ ایسا بھی آیا کہ وہ کچھ نہ کچھ بھی بند ہوگیا. کتا بھوک سے ستایا ہوا مالک مرتا کیا نہ کرتا. گھر سے نکلا گیا ایک نصرانی کے دروازے پر جا کر اس نے دستک دی کہا کہ بھوکا ہوں روٹی چاہیے. اس نصرانی نے دو روٹیاں دیں. وہ روٹیاں لے کر مالک گھر آیا چار دن کی بھوک کے ستائے ہوئے کتے کو بھی ایک روٹی ڈال دی. ایک روٹی خودکھانے لگا جب اس نے کتے کو ایک روٹی ڈالی تو کتے کو اللہ نے بولنے کی طاقت عطا فرمائی اس مالک نے کتے کو ایک روٹی پھینکیں کتا بول ہی پڑا. مالک مجھے اب پتا چلا ہے کہ غربت کے ساتھ ساتھ تیری شرم و حیا کا بھی جنازہ نکل چکا ہے.مالک نے حیران ہو کر کہا سے کتے وہ کیسے کتے نے کہا مالک میں چار دن کا بھوکا ہوں . چار دن گزر گئے ہیں تو نے مجھے کھانے کو کچھ نہ دیا . چار دن کی بھوک میں نے برداشت کرلیں مگر میں تیرے در کو چھوڑ کر کسی اور کے در پے نہیں گیا اور نہ ہی میں نے کسی سے کچھ مانگا نہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلایا مالک تو تو اشرف المخلوقات میں کتا ہو مگر میں پھر بھی اتنی عقل فتح ہو کے مجھے جو کچھ ملے گا اپنےمالک کے در سے ملے گا. مجھے اس بات کا یقین تھا کہ مجھے جب بھی ملے گا میرے مالک کے در سے ہی ملے گا . افسوس صد افسوس کہ تو اپنے مالک کے دروازہ پے جانے کی بجائے اس نصرانی کے دروازہ پے چلا گیا . اے نوجوانوں میں تمہیں بتا رہا ہوں ان چودھریوں کے دروازے پر جا کر مانگنا چھوڑ دو اپنے مالک کے دروازے پہ جاؤ اس کے آگے سجدہ ریز ہو جاؤ اور یقین رکھو کھو کہ اس اللہ کے سوا کوئی رزق نہیں دے سکتا نہ ہی تم سے کوئی تمہاری قسمت میں لکھا ہوا رزق تم سے چھین سکتا ہے.

Sharing is caring share post